الوداع اے الوداع اے ہم نشینوں الوداع
زاہد رنجور کے غم کے مکینوں الوداع
دم بہ دم لمحہ بہ لمحہ ہاے وہ دن آگیا
یاد پھر بھولا ہوا اک اک فسانہ آگیا ا گیا
اب کوئی دم میں بکھر جائے گی محفل دوستو
خون کے آنسو رلاے گا غم دل دوستو
غم نظر بن جائے گا غم ہر خوشی ہو جائے گی
آپ کے جاتے ہی دنیا دوسری ہو جائے گی
فصل گل لےکر کے اب برق دوام آ ہی گیا
یعنی اب خطرے میں محفل کا نظام آ ہی گیا
اب اسی کو زندگی کہ لیجئے یا وقت ہجر
آنکھ کھولی تھی کہ سر پے وقت شام آ ہی گیا
زاہد رنجور کے غم کے مکینوں الوداع
دم بہ دم لمحہ بہ لمحہ ہاے وہ دن آگیا
یاد پھر بھولا ہوا اک اک فسانہ آگیا ا گیا
اب کوئی دم میں بکھر جائے گی محفل دوستو
خون کے آنسو رلاے گا غم دل دوستو
غم نظر بن جائے گا غم ہر خوشی ہو جائے گی
آپ کے جاتے ہی دنیا دوسری ہو جائے گی
فصل گل لےکر کے اب برق دوام آ ہی گیا
یعنی اب خطرے میں محفل کا نظام آ ہی گیا
اب اسی کو زندگی کہ لیجئے یا وقت ہجر
آنکھ کھولی تھی کہ سر پے وقت شام آ ہی گیا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں