جمعہ، 11 مارچ، 2016

ہم مسلمانوں کو ریکروٹ نہیں کرتے: “وزارت آیوش کا حیرت انگیز جواب

نئی دہلی: ایک سنسنی خیز اعتراف حقیقت میں مودی حکومت کی وزارت آیوش نےکہا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ہم مسلمانوں کو ریکروٹ نہیں کرتے ہیں۔یہ حیرت انگیز اعتراف ایک آرٹی آئی کے جواب میں وزارت آیوش نے دیا۔ سوالتھا کہ پچھلے سال کے عالمی یوگادن میں ملک سے باہر بھیجے گئے یوگا ٹیچرز؍ٹرینر زمیں سے کتنے مسلمان تھے۔یہ افسوسناک حقیقت معروف تحقیقاتی صحافیپشپ شرما کی خصوصی رپورٹ میں آشکار ہوئی ہے جو کہ معتبر انگریزی اخبار ملیگزٹ کی اگلی اشاعت (۱۶۔۳۱مارچ) میں شائع ہورہی ہے۔

یہ معلومات حاصل کرنے کے لئے صحافی پشپ شرما نے یکے بعد دیگرے متعدد آرٹیآئی درخواستیں وزارت آیوش میں داخل کیں۔ باالآخر وزارت آیوش نے اس بات کوقبول کیا کہ اس نے کسی مسلمان کو عالمی یوگا ڈے ۲۰۱۵کے لئے بحیثیت یوگاٹیچر؍ٹرینر ریکروٹ نہیں کیا ہے۔وزارت آیوش نے اپنے جواب میں بتایا کہ اسپوسٹ کے لئے ۷۱۱مسلمانوں نے درخواست دی تھی لیکن کسی کو نہ انٹرویو کے لئےبلایا گیا اور نہ ہی کسی کو ریکروٹ کیا گیا،جبکہ ۲۶ (تمام ہندو) یوگاٹیچروں کو ملک کے باہر مذکورہ اسائنمنٹ کے لئے بھیجا گیا۔مذکورہ جواب میںوزارت آیوش نے یہ بھی بتایا کہ یوگا ٹیچر؍ٹرینر کی اسامیوں کے لئے اکتوبر۲۰۱۵تک ۳۸۴۱مسلمانوں نے درخواستیں دیں لیکن کسی مسلمان کا انتخاب نہیںہوا۔

آرٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت آیوش نے مسلمانوں کو ریکروٹ نہ کرنےکا سبب بتاتے ہوئے کہا ہے: ’’گورنمنٹ کی پالیسی کے مطابق کسی مسلمان کو نہبلایا گیا، نہ سیلیکٹ کیا گیا اور نہ ہی باہر بھیجا گیا‘‘۔وزارت آیوش کےجواب سے یہ بھی واضح ہواکہ ملک کے اندر بھی کسی مسلمان کو یوگا ٹیچر؍ٹرینرکے لئے منتخب نہیں کیا گیا حالانکہ اس کے لئے ۳۸۴۱مسلمانوں نے درخواستیںدی تھیں۔
اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پشپ شرما نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے: ’’یہ بات ہر خاص وعام کے علم میں ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سےملک میں فرقہ وارانہ نفرت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے حالانکہ اس بات کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں ، موجودہ حکومت کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ اس کی ایک وزارت ایک آرٹی آئی کے جواب میں بڑی بے شرمی کے ساتھ لکھ کر بتارہی ہے کہ اس نے ایک متعینہ پوسٹ کے لئے کسی مسلمان کو ریکروٹ نہیں کیا۔ یہ جواب ہم کو آرٹی آئی کے ایک جواب میں ملا۔ اس جواب میں وضاحت سے بتایاگیا ہے کہ ۳۸۴۱مسلمانوں نے یوگا ٹرینر؍ٹیچر کی اسامیوں کے لئےدرخواست دی، ان میں۷۱۱مسلمان بھی شامل ہیں جنہوں نے باہر جاکر یوگا کیتعلیم دینے کے لئے درخواست دی لیکن ان میں سے کسی کا انتخاب نہیں ہوا۔اوروجہ ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ یہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ہوا ہے کیونکہ حکومت مسلمانوں کو ریکروٹ نہیں کرنا چاہتی۔ یقینی طور سے یہ جواب ایک چھوٹی سی وزارت میں ایک متعینہ اسکیم کے بارے میں تھا لیکن آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ اس پالیسی کے بڑے اثرات پوری حکومت میں کسی طرح مرتب ہورہے ہوں گے۔‘‘
(مذکورہ انگریزی رپورٹ اور آر ٹی آئی جواب کی کاپی منسلک ہے)

بدھ، 5 فروری، 2014

https://twitter.com/zubairsaeedi

احساس الودع

الوداع اے الوداع اے ہم نشینوں الوداع 
زاہد رنجور کے غم کے مکینوں الوداع 
دم بہ دم لمحہ بہ لمحہ ہاے وہ دن آگیا 
یاد پھر بھولا ہوا اک اک فسانہ آگیا ا گیا 
اب کوئی دم میں بکھر جائے گی محفل دوستو 
خون کے آنسو رلاے گا غم دل دوستو 
غم نظر بن جائے گا غم ہر خوشی ہو جائے گی 
آپ کے جاتے ہی دنیا دوسری ہو جائے گی 
فصل گل لےکر کے اب برق دوام آ ہی گیا 
یعنی اب خطرے میں محفل کا نظام آ ہی گیا
اب اسی کو زندگی کہ لیجئے یا وقت ہجر 
آنکھ کھولی تھی کہ سر پے وقت شام آ ہی گیا 



منگل، 4 فروری، 2014

احساس

اپنی تصویر بناؤ گے تو  ہوگا احساس 
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا 

جھوٹی خوشی

                                             جھوٹی خوشی 
سکون مجھ سے روٹھ گیا ہے خوشیوں نے مجھ سے کنارہ کر لیا ہے، میری راتوں کی نیند حرام ہو گی ہے ، شب و روز میں ذہنی تناؤ سے کھیل رہا ہوں.اب مجھے وہ لمحہ بھی یاد نہیں رہا جب میں نے آخری بار اطمینان کی سانس لی تھی....میں نے رات رات بھر اپنی اہلیہ کی آنکھوں میں ضبط کے قطرے دیکھے ہیں
میرے ہاتھ میں بد دعا کا بھاری بھرکم ہتھیار ہے جو کئی نفوس کوبرباد کر سکتا ہے لیکن میں پھر بھی کسی کے حق میں  بد دعا کا ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مظلوم کی آہ بےکار نہیں جاتی ، اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا .......پھر سوچتا ہوں کہ خود کشی کو ترجیح دوں کیونکہ کسی کے حق میں بد دعاکرکے میں قاتل بھی نہیں بننا چاہتا ..لیکن ..اب شاید میں گھٹ گھٹ کر اپنے آپ کو ہلکان کر لونگا....مگر حرام ہونے کی وجہ سے اور عاقبت کے خوف سے ایک ساتھ اپنی جان بھی نہیں لے سکتا .....لیکن جاتے جاتے ایک تحریر ضرور چھوڑ جانا چاہتا ہوں جس میں میرے بلا واسطہ قاتلوں کے نام درج ہوں 
ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ میں مقروض ہوں اور ساتھ ہی بے اولاد بھی اور قرض کی ادائیگی کے بغیر مرنا بھی نہیں چاہتا  اگر صاحب اولاد ہوتا تو میرے جانے کے بعد بھی قرض ادا ہو جاتا.... میرے  حق میں دعا ضرور کریں 

اللہ حافظ 
زبیر خان  

اتوار، 22 دسمبر، 2013

حالت زار


ھم نے اپنی مفلسی کا اس طرح رکھا بھرم 
رابطے کم کرلیے مغرور کھلانے لگے-

پیر، 12 مارچ، 2012

سیاست

برا ہے کون لیڈر ، کون اچّھا ہے نہیں معلوم

یہاں اب کون جھوٹا ، کون سچا ہے نہیں معلوم

سنا یہ ہے سیاست حاملہ ہے کچھ مہینو ن سے

یہ سچائی ہے ، لیکن کس کا بچہ ہے؟ نہیں معلوم