بدھ، 5 فروری، 2014

https://twitter.com/zubairsaeedi

احساس الودع

الوداع اے الوداع اے ہم نشینوں الوداع 
زاہد رنجور کے غم کے مکینوں الوداع 
دم بہ دم لمحہ بہ لمحہ ہاے وہ دن آگیا 
یاد پھر بھولا ہوا اک اک فسانہ آگیا ا گیا 
اب کوئی دم میں بکھر جائے گی محفل دوستو 
خون کے آنسو رلاے گا غم دل دوستو 
غم نظر بن جائے گا غم ہر خوشی ہو جائے گی 
آپ کے جاتے ہی دنیا دوسری ہو جائے گی 
فصل گل لےکر کے اب برق دوام آ ہی گیا 
یعنی اب خطرے میں محفل کا نظام آ ہی گیا
اب اسی کو زندگی کہ لیجئے یا وقت ہجر 
آنکھ کھولی تھی کہ سر پے وقت شام آ ہی گیا 



منگل، 4 فروری، 2014

احساس

اپنی تصویر بناؤ گے تو  ہوگا احساس 
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا 

جھوٹی خوشی

                                             جھوٹی خوشی 
سکون مجھ سے روٹھ گیا ہے خوشیوں نے مجھ سے کنارہ کر لیا ہے، میری راتوں کی نیند حرام ہو گی ہے ، شب و روز میں ذہنی تناؤ سے کھیل رہا ہوں.اب مجھے وہ لمحہ بھی یاد نہیں رہا جب میں نے آخری بار اطمینان کی سانس لی تھی....میں نے رات رات بھر اپنی اہلیہ کی آنکھوں میں ضبط کے قطرے دیکھے ہیں
میرے ہاتھ میں بد دعا کا بھاری بھرکم ہتھیار ہے جو کئی نفوس کوبرباد کر سکتا ہے لیکن میں پھر بھی کسی کے حق میں  بد دعا کا ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مظلوم کی آہ بےکار نہیں جاتی ، اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا .......پھر سوچتا ہوں کہ خود کشی کو ترجیح دوں کیونکہ کسی کے حق میں بد دعاکرکے میں قاتل بھی نہیں بننا چاہتا ..لیکن ..اب شاید میں گھٹ گھٹ کر اپنے آپ کو ہلکان کر لونگا....مگر حرام ہونے کی وجہ سے اور عاقبت کے خوف سے ایک ساتھ اپنی جان بھی نہیں لے سکتا .....لیکن جاتے جاتے ایک تحریر ضرور چھوڑ جانا چاہتا ہوں جس میں میرے بلا واسطہ قاتلوں کے نام درج ہوں 
ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ میں مقروض ہوں اور ساتھ ہی بے اولاد بھی اور قرض کی ادائیگی کے بغیر مرنا بھی نہیں چاہتا  اگر صاحب اولاد ہوتا تو میرے جانے کے بعد بھی قرض ادا ہو جاتا.... میرے  حق میں دعا ضرور کریں 

اللہ حافظ 
زبیر خان